نئی دہلی5 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) یوپی کی دو لوک سبھا سیٹوں کے لئے ہو رہے ضمنی انتخاب میں جہاں سماجوادی پارٹی کوتقویت دینے اور بی جے پی کی شکست کے لئے بی ایس پی نے حمایت کا اعلان کر دیا ہے، وہیں اب کانگریس پارٹی کی جانب سے بھی خبر آ رہی ہے کہ وہ بھی اپنا امیدوار ہٹا سکتی ہے۔ ذرائع سے آ رہی خبروں کے مطابق کانگریس اس بارے میں غور کر رہی ہے۔ پہلے بھی بی جے پی کی شکست کے لئے کانگریس اس قسم کے اقدام پر غور کر چکی ہے۔ وہ ایس پی کے ساتھ ایک ایک نشست کی بات کر رہی تھی لیکن ایسا ہوا نہیں۔ کانگریس پارٹی کی کوشش ہے کہ بی جے پی کو متحدہ صورت میں ہی شکست دی جا سکتی ہے۔ ان دونوں سیٹوں پر بی جے پی نے بہترین کامیابی حاصل کی تھی اور سماج وادی پارٹی ،بی ایس پی کو ملے ووٹوں کے شامل کر بھی دیا جاتا تب بھی بی جے پی کو ملے حق رائے کی فیصدی کے مقابل نہیں سمجھا جاسکتا ہے ۔ ایسے میں کانگریس پارٹی بھی اپنا امیدوار ہٹا کر ایک مضبوط جنگ پیش کرنے کی حکمت عملی پرغور کرسکتی ہے۔واضح ہو کہ یوپی میں سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی 23 سال تک جاری سیاسی دشمنی کے بعد دوبارہ ساتھ آ گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی راجیہ سبھا انتخابات میں بی ایس پی امیدوار کو ووٹ دے گی اور بی ایس پی ایم ایل سی انتخابات میں سماج وادی پارٹی امیدوار کو۔ یہی نہیں بی ایس پی گورکھپور اور پھول پور ضمنی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کو حمایت پیش کرے گی۔ اسے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایک غیر بی جے پی مہا گٹھ بندھن کا اشارہ بھی مانا جا رہا ہے۔ 23 سال بعد مایاوتی سماجوادی پارٹی کے ساتھ کسی سیاسی میں انضمام کرر ہی ہے۔ اس میں مایاوتی کی سیاسی ضرورت بھی ہے اور دوسری طرف سماج وادی پارٹی کے نئے صدر اکھلیش سے انہیں ویسی عداوت نہیں جیسی ان کے والد ملائم کے ساتھ تھی۔ پہلا معاہدہ راجیہ سبھا قانون ساز کونسل انتخابات کا ہوا ہے۔ راجیہ سبھا کی ایک نشست جیتنے کے لئے 36.36 ووٹ چاہئے۔ سماج وادی پارٹی کے پاس 47 ووٹ ہیں۔ یعنی جیت سے 10.64 ووٹ زیادہ۔ بی ایس پی کے پاس 19 ووٹ ہیں، یعنی جیت سے 17.36 ووٹ کم۔ سماج وادی پارٹی بی ایس پی کو 10.64 ووٹ دے گی اور کانگریس کو پاس 7 ہیں۔ اس طرح بی ایس پی راجیہ سبھا کی ایک نشست جیت جائے گی۔ بدلے میں وہ سماج وادی پارٹی کے ایم ایل سی امیدوار کو ووٹ کرے گی۔گورکھپور اور پھول پور لوک سبھا سیٹیں یوگی آدتیہ ناتھ اور کیشو پرساد موریہ کے استعفیٰ کے بعد خالی ہوئی ہیں۔ دونوں لیڈر لوک سبھا سے استعفیٰ دے کر اترپردیش اسمبلی کے رکن بن چکے ہیں۔